بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

 دارالقضاء  علی گڑھ میں۔                                                         آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دارالقضاء کمیٹی کے convener, استاد حدیث و فقہ  دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ،حضرت مفتی عتیق احمد بستوی حفظہ اللہ اور دارالقضاءکے coordinatorحضرت مولانا تبریز قاسمی بستوی صاحب ،شنبہ کے دن20/3/21 مطابق ٧ شعبان ١٤٤٢ کو دارالقضاء،علیگڑھ،انتظامات اور نظم و نسق کا معیار ومعاینہ کرنے تشریف لائے تھے۔ خطیب جامع مسجد قاری محمدشاغل صاحب نے تلاوت کی۔ قاضی شریعت علی گڑھ ،ڈاکٹر مفتی محمد عامر صمدانی نے مہمانوں کا مختصر تعارف پیش کیا۔نظامت فرمائ، ڈاکٹر زبیر ظفر اور قاضی ضیاء الاسلام رحمہ اللہ تعالی نے مخلص میزبان کا کردار ادا کیا۔مفتی عتیق احمد بستوی حفظہ اللہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: فریضہ عدالت امت مسلمہ پر قیامت تک کے لیے نافذ ہونےوالاغیر منسوخ حکم ہے۔ یہ کوءی عارضی یاسرسری حکم نہیں ہے۔ حکم ربانی ہے: سورۃ نمبر 4 النساء

آیت نمبر 135


أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّامِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ‌ ؕ اِنۡ يَّكُنۡ غَنِيًّا اَوۡ فَقِيۡرًا فَاللّٰهُ اَوۡلٰى بِهِمَا‌ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡهَوٰٓى اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ‌ۚ وَاِنۡ تَلۡوٗۤا اَوۡ تُعۡرِضُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا‏ ۞


ترجمہ:

 ایمان والو ! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اسمیں) تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچ دار شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔ coordinator تبریز قاسمی صاحب نے دارالقضاءکی سماجی اور شرعی اہمیت وضرورت پر  بھر پورروشنی ڈالی،انھوں نے بتایا کہ

١٩٢١میں سب سے پہلے حضرت قاضی ابو ا المحاسن سجادرح نے پٹنہ میں دارالقضاء شرعی عدالت قائم کی تھی۔پچھلے سال کی رپورٹ کے مطابق انڈیا میں pendingمقدمے ساڑھے تین کروڑ ھیں ،جن کو حل کرنے کے لئے،دوسرے نںے مقدمات پر لوک ڈاؤن لگا کر، ساڑھے تین سو سال کی مدت درکار ہوگی۔سب سےپرانا پہلا کیس  ١٨٢٥ میں درج ھوا تھا، بنگال کی زمین کا تنازعہ، جو عدلیہ کی غفلت سے آج تک حل نہیں ھوسکا۔آزادی کے بعد ١٩٧٥میں بنا رس کے قبرستان کا کیس درج ہوا تھا جو ابھی تکpending کی دلدل میں پڑا ھے۔بھارت میں ڈیڑھ لاکھ ججوں کی تقرری کی ضرورت ہے جبکہ ٢٢ھزار ججوں کی آسامیاں ہیں۔جن میں روبکار صرف سولہ ہزار نیاے مورتیاں ہیں۔ ایک کیس پر تقریباً ایک سال میں حکومت کا خرچ ١٠ لاکھ ہوجاتاہے۔علیگڈھ کی دس سالہ دارالقضاء کی تاریخ میں تقریباً ٨سو مقدمات کا فیصلہ کیا گیاھے۔یہ یقینا ایک بڑی حصولیابی اور باشندگان علی گڑھ کے لئے فخر اور شکر کامقام ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے  کہ دارالقضاء کے موجودہ انتظامات کو خوب سے خوب تر کرنے کی بے پناہ ضرورت ہے،

مفتی عتیق احمد بستوی حفظہ اللہ نے عاجز کےھمراہ کچھ اپنے پرانے رفقاء  سے ملاقاتیں کیں،(ڈاکٹر تقی الرحمن قاسمی صاحب, عدیل اختر اور دیگر اساتذہ اے ایم یو)۔

 اشکوں میں  بہے جاتے ہیں ہم، سوے در   یار،

 مقصود رہ کعبہ ہے ،دریا کے سفر سے۔

لبریز مءے صاف سے ہوں جام بلوریں ،

زمزم سےھے مطلب نہ صفا سے  نہ حجر سے۔

فریاد ستم کش ہے وہ شمشیر کشیدہ ،

جسکا نہ رکے وار فلک کی بھی سپر سے۔

کھلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہ،

کیا جانے کہ آجائے ہے تو اس میں کدھر سے ۔

اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا،

 بہتر ہے،ملاقات مسیحا و خضر سے۔

یہ ابراہیم ذوق دہلوی(1790-1854) کی ایک کلاسیکی غزل ہے۔ ھمارے استاد گرامی، متعدد طبی کتابوں کے مصنف،حضرت مفتی عتیق احمد بستوی حفظہ اللہ کے رفیق خاص، dementia/ نسیان سے متاثر،پروفیسر اقبال احمد قاسمی_شفاه الله شفاء كاملا عاجلا_ نے مذکورہ غزل کا نصف مقطع، مفتی صاحب سے مصافحہ و طویل معانقہ کے بعد، بھیگی آنکھوں سے اٹک اٹک کر  پڑھا، جسےمفتی صاحب نے پورا کردیا۔قدرت کااعجاز دیکھیے  ماضی کا مایہ ناز مصنف حال میں قلم کو جنبش دینے سے بھی قاصر ہے۔مفتی صاحب نے ایک موقع پر فرمایا:آج اداروں اور شخصیات کے درمیان فاصلوں کو  کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔دارالعلوم دیوبند کے استاد مولانا ارشد مدنی نے فقہ اکیڈمی کے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا تھاکہ  جدیدفقہی مسائل پر غوروخوض کے لئے دیوبند کی خدمات اور سرپرستی کو اولیت دی جانی چاہئے، مولانا محمد میاں رح کی خدمات اس باب میں قابل ذکر اور قابل ستائش رہی ہیں۔پھر حضرت مفتی عتیق احمد بستوی  -كثر الله  فينا أمثاله -کا نام پکارا گیا۔آپ نے فرمایا: دارالعلوم دیوبند کے فضلاء دنیا میں جہاں بھی، جوبھی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں،وہ دارالعلوم کا حصہ ہیں،اسے  دارالعلوم کی 

چہار دیواری کی حدود میں محدودو مسدود نہ کیا جائے۔مفتی صاحب نے آیمہ وعلماء کے ذریعے شہر میں جا بجا درس قرآن  کےقیام کو سراہا اور اس کی ترغیب وتاکید فرمائی۔ابوالفضل عبدہ۔

Comments