الطريق الى المدينةroad to madina
حديث آخر، قال البخاري في فضائل القرآن: حدثنا محمد بن المثنى، "حدثنا وهب حدثنا هشام عن محمد عن معبد عن أبي سعيد الخدري، قال: كنا في مسير لنا، فنزلنا فجاءت جارية فقالت: إن سيد الحي سليم، وإن نفرنا غُيَّبٌ، فهل منكم راق؟ فقام معها رجل ما كنا نأبنه برقية، فرقاه فبرأ، فأمر له بثلاثين شاة، وسقانا لبناً. فلما رجع قلنا له: أكنت تحسن رقية أو كنت ترقي؟ فقال: لا، ما رقيت إلا بأم الكتاب، قلنا: لا تحدثوا شيئاً حتى نأتي ونسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قدمنا المدينة ذكرناه للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: وما كان يدريه أنها رقية؟ اقسموا واضربوا لي بسهم" وقال أبو معمر: حدثنا عبد الوارث، حدثنا هشام، حدثنا محمد بن سيرين حدثني معبد بن سيرين عن أبي سعيد الخدري بهذا، وهكذا رواه مسلم وأبو داود من رواية هشام وهو ابن حسان عن ابن سيرين به، وفي بعض روايات مسلم لهذا الحديث أن أبا سعيد الخدري هو الذي رقى ذلك السليم، يعني اللديغ، ويسمونه بذلك تفاؤلاً.
(حديث آخر): روى مسلم في صحيحه والنسائي في سننه من حديث أبي الأحوص سلام بن سليم عن عمار بن زريق عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: "بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده جبرائيل، إذ سمع نقيضاً فوقه، فرفع جبريل بصره إلى السماء، فقال: هذا باب قد فتح من السماء ما فتح قط، قال: فنزل منه ملك، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أبشر بنورين قد أوتيتهما لم يؤتهما نبي قبلك: فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة، لم تقرأ حرفاً منهما إلا أوتيته" ، وهذا لفظ النسائي.
عن أبي هريرة عن أبي بن كعب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ما أنزل الله في التوراة، ولا في الإنجيل، مثل أم القرآن، وهي السبع المثاني، وهي مقسومة بيني وبين عبدي نصفين" . هذا لفظ النسائي. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
يستخدم الوباء بشكل شائع كاسم ، بمعنى "انتشار مؤقت لمرض". على سبيل المثال: كانت المدينة قادرة على وقف وباء الأنفلونزا قبل أن ينتشر في جميع أنحاء الولاية .
وأخرج أبو داود والنسائي والحاكم وصححه عن ابن مسعود أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يكره عشر خصال: الصفرة يعني الخلوق، وتغيير الشيب، وجر الإِزار، والتختم بالذهب، وعقد التمائم والرقى إلا بالمعوذات والضرب بالكعاب، والتبرج بالزينة لغير بعلها، وعزل الماء لغير حله، وفساد الصبي غير محرمه.
T
What is a pandemic?
Compared to an epidemic disease, a pandemic disease is an epidemic that has spread over a large area, that is, it’s “prevalent throughout an entire country, continent, or the whole world.”
Pandemic is also used as a noun, meaning “a pandemic disease.” The WHO more specifically defines a pandemic as “a worldwide spread of a new disease.” On March 11, the WHO officially declared the COVID-19 outbreak a pandemic due to the global spread and severity of the disease.
While pandemic can be used for a disease that has spread across an entire country or other large landmass, the word is generally reserved for diseases that have spread across continents or the entire world. For instance: After documenting cases in all continents except Antarctica, scientists declared the disease a pandemic.
As an adjective, pandemic can also mean “general” and “universal,” also often with a negative connotation. However, pandemicappears to be most commonly used in the context of epidemiology, which is concerned with infectious diseases.
Pandemic also entered English, through Latin, in the 1600s. Like epidemic, pandemicultimately derives from the Greek pándēmos, “common, public.” Also like epidemic, pandemic was originally used of diseases when in came into English. كانت منتهقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِکِ النَّاسِ، اِِلٰـہِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ، مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ}۔
"(اے پیغمبر) کہہ دے میں پناہ میں آیا لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبودکی، اس وسوسے ڈالنے والے، چھپ جانے والے کی بدی سے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے،(خواہ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔"( الناس5-1)۔
سورۃ الناس بظاہر ایک چھو ٹی سی سورت ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی 3 صفات مذکور ہیں۔ اس میں پوری توحید آگئی ہے اور اس نے توحید کی تمام (تینوں) اقسام اور تمام نکات کو اپنے دامن میں سمو لیا ہے۔
توحیدِ ر بوبیت:
{رَبِّ النَّاس}: یہ توحیدِ ربوبیت ہے۔ اللہ رب العزت پوری کائنات کا مالک و خالق ہے اور کائنات پر اسی کا امر اور اسی کا تصرف چلتا ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے، سب اسی کے حکم سے ہو رہاہے اور چونکہ یہ مقامِ پناہ ہے تو اللہ کی صفتِ ربوبیت ذکر کر دی گئی کہ جو رب الناس ہے، وہ تم کو پناہ دینے، تمہارے شر کو ختم کرنے اور تم کو آسائش، امن و سلامتی اور سکون عطا فرمانے پر قادر ہے کیونکہ وہ {رَبِّ النَّاسِ} ہے۔
توحیدِ اسما و صفات:
{مَلِکِ النَّاس} یہ توحیدِ اسما و صفات ہے کہ وہ {مَلِکِ النَّاسِ} ہے۔ تمام لوگوں کا بادشاہ بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ ’’مَلِکُ الْمُلُوُکِ۔ مَلِکُ الْاَمْلاَک‘‘ یہ اللہ کی صفت ہے ۔ دنیا کے بادشاہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں ، وہ بھی بعض وقت پناہ دیتے ہیں لیکن وہ ایک عار ضی امر ہے جبکہ آپ نے پناہ کی در خواست کی اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تو مالک ہے، احکم الحاکمین ہے، جیسا کہ سورۃ الملک،آیت1 میں ہے:
"برکتوں والی ہے، وہ ذات جس کے ہاتھ میں کل کائنات کی بادشاہت ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا خاص طور پر ذکر کیا تاکہ اللہ سے پناہ طلب کرنے والے مطمئن ہو جائیں کہ جس ذات کی پناہ ہم طلب کرنا چاہتے ہیں، وہ مالک ہے، وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ قیامت کا دن ہو گا، یہ زمین اور آسمان اللہ کی انگلیوں پر اچھل رہے ہوں گے۔ اللہ ان کو ہلا رہا ہوگا اور فرما رہا ہوگا:
"زمین کے بادشاہ کہاں ہیں،بڑے بڑے سر کش کہاں ہیں،تکبر کر نے والے کہاں ہیں؟"
اللہ تعالیٰ تو زبر دستوں کا زبر دست اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اے اللہ کی پناہ طلب کرنے والے! جس ذات کی تو پناہ طلب کرنا چاہتا ہے وہ {مَلِکِ النَّاس} ہے۔ وہ تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ کُل کائنات کی بادشاہت اور حکومت اس اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو وہی پناہ دے گا، لہٰذا اسی سے پناہ طلب کر، وہی پناہ دے گا، پھر دنیا کی کوئی طاقت کوئی شر کوئی فتنہ تمھیں نقصان نہیں دے سکے گا۔
توحید الوہیت و عبادت:
{اِلٰہِ النَّاس} وہ تمام لوگوں کا معبود ہے۔ یہ توحیدِ الوہیت یا توحیدِ عبادت ہے، اس کا خالق ومالک ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے کیونکہ جو خالق ہے وہی معبود ہوتا ہے۔ سورۃ البقرہ ،آیت21 میں ارشادِ الٰہی ہے:
"اے لوگو! عبادت کرو اُس رب کی جو تمہارا خالق ہے۔"
وہ خالق ہے، دوسرا کوئی خالق نہیں تو خالق ہی عبادت کے لائق ہوتا ہے اور ہر قسم کی عبادت بھی اسی کیلئے ہے۔ ان عبادات میں سے ایک عبادت ’’استعاذہ‘‘ بھی ہے، پناہ مانگنے کی عبادت۔ اللہ کی پناہ کی طلب کرو، و ہی پناہ دینے والا ’’مستعاذ بہٖ‘‘ (جس کی پناہ مانگی جا ئے) ہے۔یہاں مستعاذ منہ (جس سے پناہ مانگی جائے) کیا ہے؟ مستعاذ منہ {شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ}ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:
{ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ، مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ}
"اس وسوسے ڈالنے والے چھپ جانے والے کی بدی سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، جنوں اور انسانوں سے۔"
سورہ الفلق اور الناس کا موازنہ:
دنیا میں شر کی 2ہی بڑی قسمیں ہیں۔ ایک ذنوب اور معا صی کا شر، دوسرا مصائب اور تکالیف کا شر۔ سورۃ الفلق میں مصائب اور تکالیف کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، یعنی جنّ، جادو، نظرِبد اور ہر قسم کے شر سے اور سورۃ الناس میں ذنوب اور معاصی کے شر یعنی گناہوں اور نافرمانیوں کے شر سے پناہ طلب کی گئی ہے جس کا اصل ہمیشہ شیطان کا وسوسہ ہوتا ہے لیکن انسان کو اس کے اثرات روکنے کا اختیار حاصل ہے اور آدمی اس پر غالب آسکتا ہے۔he -demic part of epidemic (and pandemic) comes from the Greek dêmos, “people of a district.” This root also ultimately gives English the word democracy. More on the prefix epi– later.
Metaphorically, epidemic is “a rapid spread or increase in the occurrence of something,” usually with a negative or ضوابط مخمم؟humorous connotation: An epidemic of gentrification was affecting low-income communities or The hipster look gave way to an epidemic of 1990s fashion.
سورة الـناس
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِبسم الله الرحمن الرحيم.) 1 ( قل أعوذ برب الناس1 . قل: أعوذ برب البشر.) 2 ( ملك الناس2 . ملك البشرية.) 3 ( إله الناس3 . إله البشرية.) 4 ( من شر الوسواس الخناس4 . من شر الهمس المتستر.) 5 ( الذي يوسوس في صدور الناس5 . من يهمس في قلوب الناس.) 6 ( من الجنة والناس6 . من بين الجن وبين البشر ".و باء المرض هو واحد "التي تؤثر على العديد من ط ك0حطگطفي نفس الوقت، وينتشر من شخص لآخر في مكان حيث كان المرض ليس شائعا بشكل دائم." كما تحدد منظمة الصحة العالمية (WHO) الوباء على أنه يحدث على مستوى المنطقة أو المجتمع.
- ○
- لنبدأ بالتعريفات الأساسية:
- الوباء مرض يصيب عددًا كبيرًا من الناس داخل المجتمع أو السكان أو المنطقة.
- إن PANDEMIC هو بداية لنبدأ بالتعريفات الأساسية:
- الوباء مرض يصيب عددًا كبيرًا من الناس داخل المجتمع أو السكان أو المنطقة.
- الوباء هو وباء ينتشر عبر بلدان أو قارات متعددة.
- ENDEMIC هو شيء ينتمي إلى شعب أو دولة معينة.
- إن زيادة عدد حالات الإصابة بالعدوى هي زيادة تفوق التوقعات. يمكن أن يكون أيضًا حالة واحدة في منطقة جديدة. إذا لم يتم السيطرة عليه بسرعة ، يمكن أن يصبح التفشي وباء.
- الوباء مقابل الوباء
- طريقة بسيطة لمعرفة الفرق بين الوباء والوباء هي تذكر "P" في الوباء ، مما يعني أن للوباء جواز سفر. الوباء هو وباء ينتقل.
- الوباء مقابل المتوطن
- ولكن ما الفرق بين الوباء والمتوطن؟ ينتشر الوباء بنشاط ؛ الحالات الجديدة للمرض تتجاوز بشكل كبير ما هو متوقع. على نطاق أوسع ، يتم استخدامه لوصف أي مشكلة خارجة عن السيطرة ، مثل "وباء الأفيون". غالبًا ما يكون الوباء موضعيًا في منطقة ما ، ولكن عدد المصابين في تلك المنطقة أعلى بكثير من المعدل الطبيعي. على سبيل المثال ، عندما كان COVID-19 يقتصر على ووهان ، الصين ، كان وباءً. حولها الانتشار الجغرافي إلى جائحة.
- من ناحية أخرى ، فإن الأمراض المتوطنة هي وجود دائم في مكان معين. الملاريا مرض مستوطن في أجزاء من أفريقيا. الجليد مستوطن في القارة القطبية الجنوبية.
- المستوطنة مقابل التفشي
- عند الانتقال خطوة أبعد ، يمكن أن يؤدي تفشي المرض إلى تفشي ، ويمكن أن يحدث تفشي في أي مكان. إن تفشي حمى الضنك في الصيف الماضي في هاواي هو مثال على ذلك. حمى الضنك متوطنة في مناطق معينة من أفريقيا وأمريكا الوسطى والجنوبية ومنطقة البحر الكاريبي. يحمل البعوض في هذه المناطق حمى الضنك وينقلها من شخص لآخر. ولكن في عام 2019 كان هناك تفشي حمى الضنك في هاواي ، حيث لا ينتشر المرض. يعتقد أن شخصًا مصابًا زار الجزيرة الكبيرة وعضه البعوض هناك. ثم نقلت الحشرات المرض إلى أفراد آخرين بتهم ، مما أدى إلى تفشي المرض.
- يمكنك أن ترى لماذا من السهل الخلط بين هذه المصطلحات. ترتبط جميعها ببعضها البعض ، وهناك انحراف طبيعي وتدفق بينهما عند توفر العلاجات ووضع تدابير للسيطرة - أو مع حدوث نوبات اندلاع للمرض. التي تنتشر عبر بلدان أو قارات متعددة.
- ENDEMIC هو شيء ينتمي إلى شعب أو دولة معينة.
- إن زيادة عدد حالات الإصابة بالعدوى هي زيادة تفوق التوقعات. يمكن أن يكون أيضًا حالة واحدة في منطقة جديدة. إذا لم يتم السيطرة عليه بسرعة ، يمكن أن يصبح التفشي وباء.
- الوباء مقابل الوباء
- طريقة بسيطة لمعرفة الفرق بين الوباء والوباء هي تذكر "P" في الوباء ، مما يعني أن للوباء جواز سفر. الوباء هو وباء ينتقل.
- الوباء مقابل المتوطن
- ولكن ما الفرق بين الوباء والمتوطن؟ ينتشر الوباء بنشاط ؛ الحالات الجديدة للمرض تتجاوز بشكل كبير ما هو متوقع. على نطاق أوسع ، يتم استخدامه لوصف أي مشكلة خارجة عن السيطرة ، مثل "وباء الأفيون". غالبًا ما يتم تحديد موقع الوباء في منطقة ما ، ولكن عدد المصابين في تلك المنطقة أعلى بكثير من المعدل الطبيعي. على سبيل المثال ، عندما كان COVID-19 يقتصر على ووهان ، الصين ، كان وباءً. حولها الانتشار الجغرافي إلى جائحة.
- من ناحية أخرى ، فإن الأمراض المتوطنة هي وجود دائم في مكان معين. الملاريا مرض مستوطن في أجزاء من أفريقيا. الجليد مستوطن في القارة القطبية الجنوبية.
- المستوطنة مقابل التفشي
- عند الانتقال خطوة أبعد ، يمكن أن يؤدي تفشي المرض إلى تفشي ، ويمكن أن يحدث تفشي في أي مكان. إن تفشي حمى الضنك في الصيف الماضي في هاواي هو مثال على ذلك. حمى الضنك متوطنة في مناطق معينة من أفريقيا وأمريكا الوسطى والجنوبية ومنطقة البحر الكاريبي. يحمل البعوض في هذه المناطق حمى الضنك وينقلها من شخص لآخر. ولكن في عام 2019 كان هناك تفشي حمى الضنك في هاواي ، حيث لا يتوطن المرض. يعتقد أن شخصًا مصابًا زار الجزيرة الكبيرة وعضه البعوض هناك. ثم نقلت الحشرات المرض إلى أفراد آخرين بتهم ، مما أدى إلى تفشي المرض.
- يمكنك أن ترى من السهل الخلط بين هذه المصطلحات. أدخل بعضها ببعضها البعض ، وتدفعها معًا وتدفقها مع بعضها للسيطرة - أو عند نوبات اندلاع للمرض. ى
ار وہ حب رسول سے سرشار ہotے ہیں تو ان کی شاعری عشق رسول کےیراہن میں نمودار ہوتی ہے:
زمزم وکثر ویم تکونھ سکتا
یا نبی آپ کی تعظیم نہیں سکتا
میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحت
ج بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سفر پارے : صدیاں گزر گئیں کہ زمانہ سفر میں ہے۔
ابوالفضل عبداللہ:
٢٣ شوال ١٤٤٢ھ( 5/6/21 ) کی شام، باھم دست و گریباں برسر پیکار فریقین میں مصالحت کے لئے عاجز کو، علی گڑھ سے اچانک رخت سفر باندھنے کی ضرورت پیش آئی۔ کسی طرح ceasefire کے بعد غنیمت سمجھتے ہوئے ، مولانا شاہد عبداللہ کے ہمراہ سنگار سے آلی/عا لی گاؤں کا قصد کیا،تاکہ وہاں چندمعياری مکاتب ، کچھ اساتذہ اور ان کے تلامذه سے ملاقات کیجا سکےاور جامع مسجد میں ، شیخ سلمان حسینی ندوہ بدر ندوی کے نام پر قائم ایک نو زائیدہ مکتبہ کی زیا رت ممكن ہوسکے۔وھاں مولانا اسلم صاحب نے مکتبہ کی طرف رضا کارانہ مخلصانہ رہنمائی کی۔ تعارف کی درخواست پر خود کو "میاں جی"بتایا، بقول غالب: کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
تاهم ہم نے کوئی پولسیانہ یا فلسفیانہ موشگافی نہیں کی۔مولانا تعریف ندوی صاحب جامع مسجد میں طلباءکے ساتھ ہمہ تن مصروف تعلیم نظر آے،وہیں ایک حفظ کے طالب علم بھی بالکل یکسو ہو کر،اپنے حال اور اپنی کھال میں مست،زور زور سے سبق یاد کررہے تھے۔ تعارف اورسلام دعا کے بعد طلباء سے گفتگو ہوئی،یہ ہمارے علاقے میں ایک خوبصورت قابل ذکر پہل ہے یعنی مسجد بھی ،دانشگاہ اور لایبریری بھی جبکہ علی گڑھ کی مساجد میں مطبخkitchens کی تعمیر ناگزیر خیال کیجا تی ہے۔
نبوی دور میں مسجد ،تعلیم، عبادت،اعلامیہ،انتظامیہ، عدلیہ اورمقننہ سب کا مرکز ہو تی تھی۔جبکہ آج اسے ہماری کم ظرفی اور ناعاقبت اندیشی نےخاص لوگ ، خاص شرائط اور مخصوص منتخب کتابوں کا centre بنا چھوڑا ہے۔ افسوس آج مسجد کی مرکزیت ختم ہو گئی ہے،جسکی بحالی ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔ اب بعض مقامات پر طولانی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا مفتی اعظم بھی، کسی مسجد میں درس قرآن یا درس حدیث یا درس فقہ کی جرات وجسارت نہیں کر سکتا, خدا معلوم اسے کمال کہیں یا زوال۔
ببيں تفاوت رہ از کجا است تا بکجا.
مگر ہمارے خیال میں درست موقف نظیری صاحب كا هے:
گریزد از صف ما آنکہ مرد غوغا نیست
کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلۂ مانیست
(نظیری نیشاپوری)
(ہر وہ کہ جو ظلم کے خلاف احتجاج اور فریاد کرنے کی ہمت نہیں رکھتا، ہماری صفوں سے چلا جائے کہ جو جان نہ دے، وہ ہمارے قبیلے میں سے نہیں ہے۔)
مرحوم"جامع العلوم"کی یاد میں:
لوھنگا کلاں میوات میں چند ماہ قبل جمعیت کی ممبر شپ یا تعلیمی بیداری کا کوئی پروگرام تھا۔کنوینر مولانا عبد الرشید قاسمی "مكرام" نے راقم الحرفین کو بھی مدعو کیا۔ اس گاؤں سے ہمارا جنم بھومی جیسابہت پرانا تعلق رہا ہے . ایک معنی میں یہاں ہمارا ننھیال بھی ہے۔ھمارے ایک أکبر نامی ماموں زاد بھائی ماضی میں یہاں کے سرپنچ بھی رہ چکے ہیں۔
ہمارے والد حضرت مولانا رحیم بخش خان أمینی مرحوم غفر لہ رح(1948__2005) بن حاجی چندر خان بن شیر خان بن گل خان بن بیرم خان بن فتح خان بن عبد الصمد خان سنغاری_ أدخلهم الله تعالى في رحمته و مغفرته ورضوانه_وبدل الله سيآتهم حسنات_ نے یہاں 60_ 70 کی دھائی میں جامع العلوم نام کا ایک ادارہ قائم کیا تھا، یہ نام والد گرامی نے حضرت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے" کانپور والے جامع العلوم" پر رکھا تھا.جس میں شرح جامی تک کتابیں پڑھائی جاتی تھیں،اس معیار کے ادارے اس وقت خال خال ہی پائے جاتے تھے۔مولانا عبدالرشید صاحب نے بڑی محبت اور عظمت کے ساتھ، اس قدیم عمارت کا معائنہ کرایا۔شرف کی بات یہ ہے کہ آپ کے برادر بزرگوار حاجی محمد قاسم حفظہ اللہ_ امام وخطیب مہتمم و پرنسپل مدرسہ ومقیم بھرت پور _ نے اپنی آغوشِ محبت میں ہمیں کھلایا بھی ہے۔ _ جزاهم الله أحسن ما يؤتى عباده الصالحين _ بھرت پور میں سینتالیس کے بعد سب سے پہلے حافظ محمد فرید بن عبد الغفار آپ ہی کے ادارے سے فارغ ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس قدیم ادارے کی نشاة ثانیہ کا جدید ارادہ رکھتے ہیں_وفقناالله وإياه توفيق الصالحين _ ویسےوہ بڑی با توفیق اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ھوے ہیں۔ ماشاءاللہ اداروں کی تاسیس، قیام اور انتظام کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں۔ باخبراہل نظر جانتے ہیں کہ مانڈی کھیڑا میں اتنے بڑے ادارے کی ابتدا، عرو ج ، توسیع اور تزیین کاریوں میں ان کا بڑا مخلصانہ ہاتھ رہا ہے۔کبھی وہ اس ادارے کی روح رواں اور جڑ بنیاد تھے۔پھر" تسریح بالإحسان والمعروف "پر عمل کرتے ہوئے خودسر جبہ دستار والے رفقاء کو داغ مفارقت دےآ ے۔
وہ آ یے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
پھر تو وہاں یہ دیکھا گیا کہ بڑائی کے دعویدار چھوٹے لوگ بڑے بن گئے ہیں۔ عربی زبان کی یہ کہاوت کتنی سچی ہے:کبرنی موت الکبراء۔
مضیف العلماء والصالحین:
مولانا رستم چاندنکی کے ہمراہ جمعیت کی اس تقریب میں حاضری ہوئی۔میانجی رمضان مالب حفظہ اللہ، مولانا محمد ہارون صدر جمعیت (الف),مولانا حکیم الدین اٹاوڑی نے خطابات سے محظوظ فرمایا۔
دل میں ایک دیرینہ خواہش اور آرزو تھی جو آرزو ہی رہی: بقول شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال رح :"
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو "۔
سیاست کو شجر ممنوعہ کہنے لکھنے والوں نے اسی موضوع پر سیر حاصل منہ بھر کے گفتگو فرمائی۔ تاہم میراث ، مسرفانہ شاہ خرچیوں ،پردہ دری ،مشرکانہ رسومات جیسےگوتر پال،اور حق گزاری جیسے موضوعات کو بہت کم چھیڑا جاتا ہے،
بقول أکبر الہ آبادی رح
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ ۔
صورتحال کچھ اس طرح کی ہے:
فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡهَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ يُعۡطَوۡا مِنۡهَاۤ اِذَا هُمۡ يَسۡخَطُوۡنَ.
وہاں توکل کے بالمقابل " تدکل" کی پرچھائیاں زیادہ گہری تھیں۔
معذرت کے ساتھ:
آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے
بھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہے.
افراد دین کے لیے کلمہء خیر میں بخیلی:
ابلیس لعنہ اللہ کے امتیازی اوصاف خود سری ، خودپسندی اور خود رائ کا برا ہو،دیگر ملی تنظیموں اور مخلص افراد کے لئے کلمه خیر زبان پر لانا کتنا مشکل ہے،اس کا بخوبی اندازہ ہوا۔ "كل حزب بما لديهم فرحون" کے نقوش عیاں اور نمایاں تھے۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص، یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ، اتنا ہی یقیں تھا
وہ کہاں ہیں ؟ کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا ۔
اولین امیر تبلیغ مولانامحمد الیاس کاندھلوی رح کی دعوت اسلام:
عالی جاہ صدر جمعیت نے اپنی تقریر میں ایک واقعہ یہ بھی بیان فرمایا: اولین امیر تبلیغی جماعت حضرت مولانامحمد الیاس کاندھلوی رح اور مولانا احتشام الحسن کاندھلوی رح ڈاکٹر امبیڈکر کو اسلام کی دعوت دینے تشریف لے گئے تھے۔ترغیب کے لئے ان کے سامنے اسلام کے محاسن بیان فرمائے مگر ڈاکٹر امبیڈکر صاحب نے جواب میں کہا : اسلام کی خوبیاں بجا ہیں مگر مسلمانوں میں تو یہ خوبیاں قطعا نہیں دکھائی دیتں۔ اس پر دونوں حضرات واپس تشریف لے آئے۔
وقفہ صفر میں دسترخوان یا خوان یغما پر عاجز نے اپنا من پسند موضوع ہونے کی وجہ سے ، خطیب سے اس واقعہ کے حوالہ reference اور متابعت اسناد کی درخواست کی، تو آنحضرت نے جواب آن غزل کے طور پر فی الفور جناب نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب سے رابطہ کرنے کی صلاح دیدی۔ایک سادہ لوح رفیق نے کان میں سرگوشی یاکانا پھوسی کی: یہ کیا کسی مشہور کتاب کا نام ہے؟ نام پیش کردیا جو ایک مشکل ٹاسک اور ایک دیر طلب غیر علمی عمل تھا۔ ہم نے بخشودن بخشاءیدن کی گردان دل ہی دل میں کر لی اور بس۔
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
جو میری پیاس سے الجھے تو۔۔۔۔۔۔ ب أن يتم الاتصال بك من خلال البريد الإلكتروني
Comments
Post a Comment