Nsab sharif
- كيف نسبه (صلى الله عليه وسلم) فيكم؟
(هرقل عظيم الروم المسيحى)
هو فينا ذونسب ٠
(ابوسفيان بن حرب رض المشرك المكى انذاك)
نسب النبي صلى الله عليه وسلم:
هو محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارَ بْنِ مَعَد بْنِ عَدْنَانَ. إلى النسب الموجودة في الجدول. مراقبة عدنان يعدُّ رسول الله صَلَّى الله عليه وسلم.
وروى ابن الكلبيِّ ، عن ابن صالح ، عن ابن عباس ، قال: كان النبيُّ عليه الصلاة والسلام ، إذا انتهى النسب إلى عدنان أمسك ، ثم يقول: "كذب النسابون". وقالت عائشة رضي الله عنها: "ما وراء الخبر منقول". وقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: "إنما ننتسب إلى عدنان ، وما بعد ذلك لا أدري ما هو". وقال ابن جريح عن القاسم بن أبيَّة عن عكرمة: "أضلَّت نزار نسبتها من عدنان".
وقال محمد بن أحمد بن حميد القرشي العدوي: لا أعلم أحد من الشعراء بلغ في شعره إلا لبيد بن ربيعة ، وعباس بن مرداس السلمَّي. قال لبيد:
فآن لم تجد من دون عدنان والدا ودون
معد
فلترعك
القبائل
وقآل عباس بن مرداس:
وعك
بن
عدنان
الذين
تلعبوا بغسان حتى "طردوا" كل مطرد
وقال: "سمعت أعلم ما وراء معدَّل". وروى ابن لهيعة ، عن أبي الأسود أنه سمع عروة بن الزبير يقول: "ما وراء زيّادة من شارع بني عدنان".
قال أبو العباس محمد بن إبراهيم السرَّاج: حدثنا عبيد الله بن سعد الزُّبيريُّ ، قال: أخبرنا أحمد بن محمد ، قال: سمعت الشافعيَّ يقول: اسم عبد المطلب شيبة بن هاشم ، وهاشم اسمه عمرو بن عبد مناف ، وعبد مناف اسمه المغيرة بن قصيٍّ ، وقصيٌّ اسمه زيد بن كلاب بن مرَّة بن كعب بن لؤي. وقال الشافعيُّ: أبو طالب اسمه عبد مناف بن عبد المطلب.
وإليك تفصيل هذا النسب المبارك
:
ويكنى أبا عبد شمس ، فولد عبد مناف هاشمًا ، والمطلب ، ونوفل ، وعبد شمس ؛ وأمُّهم ــ ما عدا نوفلًا ــ عاتكة بنت مرَّة ابن هلال بن فالح بن ثعلبة بن ثعلبة. وأمُّ نوفل وافدة بنت عمرو المازنيَّة ، من مازن بن منصور بن عكرمة ؛ فأما هاشم فلم يعقب من ولده غير عبد المطلب. لا في الأرض هاشميٌّ إلا من ولد عبد المطلب ، ذكره بعد هذا. وقال شاعر من قريش ، أو من بعض العرب يمدح هاشمًا:
عَمرُو الذي هَشَم الثَّريدَ لقومهِ قومٍ
هو محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارَ بْنِ مَعَد بْنِ عَدْنَانَ. إلى النسب الموجودة في الجدول. مراقبة عدنان يعدُّ رسول الله صَلَّى الله عليه وسلم.
وروى ابن الكلبيِّ ، عن ابن صالح ، عن ابن عباس ، قال: كان النبيُّ عليه الصلاة والسلام ، إذا انتهى النسب إلى عدنان أمسك ، ثم يقول: "كذب النسابون". وقالت عائشة رضي الله عنها: "ما وراء الخبر منقول". وقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: "إنما ننتسب إلى عدنان ، وما بعد ذلك لا أدري ما هو". وقال ابن جريح عن القاسم بن أبيَّة عن عكرمة: "أضلَّت نزار نسبتها من عدنان".
وقال محمد بن أحمد بن حميد القرشي العدوي: لا أعلم أحد من الشعراء بلغ في شعره إلا لبيد بن ربيعة ، وعباس بن مرداس السلمَّي. قال لبيد:
فآن لم تجد من دون عدنان والدا ودون
معد
فلترعك
القبائل
وقآل عباس بن مرداس:
وعك
بن
عدنان
الذين
تلعبوا بغسان حتى "طردوا" كل مطرد
وقال: "سمعت أعلم ما وراء معدَّل". وروى ابن لهيعة ، عن أبي الأسود أنه سمع عروة بن الزبير يقول: "ما وراء زيّادة من شارع بني عدنان".
قال أبو العباس محمد بن إبراهيم السرَّاج: حدثنا عبيد الله بن سعد الزُّبيريُّ ، قال: أخبرنا أحمد بن محمد ، قال: سمعت الشافعيَّ يقول: اسم عبد المطلب شيبة بن هاشم ، وهاشم اسمه عمرو بن عبد مناف ، وعبد مناف اسمه المغيرة بن قصيٍّ ، وقصيٌّ اسمه زيد بن كلاب بن مرَّة بن كعب بن لؤي. وقال الشافعيُّ: أبو طالب اسمه عبد مناف بن عبد المطلب.
وإليك تفصيل هذا النسب المبارك
:
ويكنى أبا عبد شمس ، فولد عبد مناف هاشمًا ، والمطلب ، ونوفل ، وعبد شمس ؛ وأمُّهم ــ ما عدا نوفلًا ــ عاتكة بنت مرَّة ابن هلال بن فالح بن ثعلبة بن ثعلبة. وأمُّ نوفل وافدة بنت عمرو المازنيَّة ، من مازن بن منصور بن عكرمة ؛ فأما هاشم فلم يعقب من ولده غير عبد المطلب. لا في الأرض هاشميٌّ إلا من ولد عبد المطلب ، ذكره بعد هذا. وقال شاعر من قريش ، أو من بعض العرب يمدح هاشمًا:
عَمرُو الذي هَشَم الثَّريدَ لقومهِ قومٍ
بسم الله الرحمن الرحيم سفر میوات/آدھا سفر نامہ۔ ارشاد رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم
خیر الاصحاب أربعة" پر عمل درآمد کر تےھوے،چار رفقاء( خالد ندوی بن حافظ محمود ،صابر،ڈاکٹرشفیق الرحمن بن قاری أیوب قاسمی اور عاجز) 11/3/21مطابق 27رجب 1442کو شیو راتری اور کاوڑ یاترا کے اشبھ موقع پر ،علماء کرام ابناے ندوہ اور مشائخ میوات کی زیارت کی غرض سے شیخ نسیم ندوی کی مخلصانہ دعوت ولیمہ پر علیگڈہ سے لھرواڑی حاضر ہوئے۔نسیم صبح تیری مہربانی ۔استاذ الاساتذہ برکت میوات حضرت مولانا محمد اسحاق اٹاوڑی زادہ اللہ تکریما کی پوتی سے آپ کا عقد نکاح ہوا ہے۔تاکہ خیر کی لھر عام ہوجائے۔
لعنت جہیز کی تدفین،نکاح میں سنت وسادگی،گوترپال کی رسومات کو نذرآتش کرنے اور دیگر مشرکانہ مسرفانہ اعمال کےلئے میواتی علماء کرام بالخصوص چراغ مصطفوی حضرت مولانا سراج الدین قاسمی ادخلنا الله في رحمته،خلیفہ داعی اسلام محمد کلیم صدیقی حفظہ اللہ،
استاد گرامی حضرت مولانامحمد راشد میل کھیڑ لا،فاضل دلبند اور جگر پیوند دوست،شیخ طریقت مولانا محمد اسجد قاسمی کثراللہ فینا امثالہ، آپ کے قرآن وحدیث کے دروس بے پناہ مقبول ہیں ،مولانا عبدالغفار ندوی بلی ، مضیف العلماء مولانا رستم چاندنکی , مولانا حکیم الدین قاسمی ناٹولی اور شیخ ذاکر جھمراوٹ _ متعنااللہ بعلومهم و أعمالهم الصالحات _جیسے سماجی مصلحین و مجاہدین کے حالیہ انقلابی اقدامات اور عملی کاوشیں پورے سماج کے لئے قابل تقلید ہیں۔أنعم الله عليهم إنعام النبيين والصديقين والشهداءوالصالحين.
بشمول میوات بھارت کےچندمھاشے مہتمم گن۔ مرید سادہ تو رو رو کے ہوگیا تاءب۔ خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق۔ اسکے بر خلاف میوات میں ایک قدیم ترین مدرسے کے آمر مہتمم، گفتار کے غازی، کردارسےعاری،نام بڑے اور درشن چھوٹے کا نمونہ،وإذا قيل له اتق الله أخذت العزة بالاثم....(اورجب اس سے کہا جاتا ہے اللہ کا خوف کر،تو نخوت اس کو گناہ پر اور آمادہ کر دیتی ہے۔۔)کی تفسیر، ابھرتی قیادت کا متملق و چاپلوس، مھاشے جواپنی علمیت اور" عملیات" سے فرمایشی تلک جہیز اور گھوڑے جوڑے کو نہ صرف جایز بلکہ حلال و طیب اور مستحب گردانتے ہیں۔ تبلیغی حلقہ کےذمہ داران سے اس سماجی لعنت،جھالت اور جا ھلیت کے فروغ میں انکے حصہ، پر گفتگو ہوئی، انکی غیر مربوط غیر عالمانہ گفتار کا خلاصہ یہی تھاکہ انھیں سماجی برائیوں کی اصلاح سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ابن الوقت لوگ ذرا بھی نہیں شرماتے۔ بقول اقبال"خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ، ہو ے ہیں کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق" ۔اسی سے آپ سمجھ سکتے ہیں کیوں ہمارا تاریخی محبوب ضلع نوح میوات، آج پورے بھارت میں پسماندہ ہے۔غالب مرحوم نےشایدسچ کہا تھا۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ اسی فاسد سوچ پر امام ابو حنیفہ رح کے شاگرد،امام بخاری رح کے استاد الاساتذہ عبداللہ ابن مبارک رح کا فرمان یاد آگیا،"هل أفسد الدين إلا الملوك وأحبار سوء ورهبانها". دين كے بگاڑ میں سب سے لمبا ہاتھ✋ ضمیر فروش چودھریوں اور فتویٰ فروش جبہ و دستار والے علماءکا ھوتا ھے۔
ارمغانِ میوات سہ ماہی۔
مسبوق مقتدی کی طرح تقریب میں ھماری پہلی شرکت ہی کچھ تاخیر سے ہوئی، اکثرابناے ندوہ کے نام اور کام کا تعارف، حال سے گزر کر ماضی بن چکا تھا۔اپنا تعارف پیش کیا بقول غالب دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں۔ ڈاکٹر شفیق ندوی نے ایک جان لیوا نعتیہ کلام سنایا۔عجیب بات ھے زندگی کی ہر آن گزر کر ماضی بنتی چلی جارہی ہے اور ہر لمحہ آکر مستقبل کو حال اور جا کر حال کو ماضی میں بدل رہا ہے ۔ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت بڑی مقدار ہوتی ہے۔اسی ایک سیکنڈ میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا فاصلہ طے کر تی ہے۔ھرایک شخص اورقوم کو دنیا میں کام کرنے کے لئے یہی قیمتی سرمایہ دیا گیا ہے۔
سدا بہار استقبالیہ۔
مفتی سعید ندوی کی صدارت اور تعریف سلیم ندوی کی خوبصورت نظامت میں تعاون علی البر اور دعوت إلی الخیر كےساتھ، عظمت رفتہ کو آواز دینے کے لئے قدیم صالح اور جدید نافع کے زریں اصول پر " ارمغانِ میوات سہ ماہی" کی اشاعت پر اتفاق رائے ہوا۔ دو ماہی" رہنمائے میوات" کی ضرورت وافادیت کے قلبی اعتراف کے ساتھ۔ میزبان گرامی نسیم ندوی نے باغ وبہار استقبالیہ پیش کیا۔
کچھ اسماء الرجال میں کتر بیونت کے بعد
ڈاکٹر مفتی مشتاق قاسمی تجاروی کا إشراف طے ہوا،مشاورتی بورڈ میں حضرت مولانا محمد راشد قاسمی حفظہ اللہ،مھتمم میل کھیڑلا،ڈاکٹر مفتی محمد عامر صمدانی سنگاروی قاسمی، قاضی شریعت ،دارالقضاء مسلم پرسنل لا بورڈ علی گڑھ۔مولانا صابر قاسمی،استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا شمس الدین ندوی شکراوہ،مولانا عبد الغفار ندوی بلی،مفتی سعید احمد ندوی کا انتخاب ہوا۔
مجلسِ ادارت کے لئے ڈاکٹر عارف الیاس ندوی آلی میو JNU،ڈاکٹرعبدالعزیز سہسولہ،ڈاکٹر شفیق الرحمن ندوی قاسمی جگڑکا، راشد امین ندوی ملاءی، ڈاکٹر آزاد ندوی نءی اور ابوالفضل راقم الحرفین کا نام پیش کیا گیا۔
الجامعہ کیمپس مروڑا میں مولانا عارف ندوی کے ہمراہ جاناھوا،جھاں پٹنہ کے شبلی ارسلان،"کانتی" ہندی ماہنامہ کے ایڈیٹر سے، میوات میں ،دعوت إلی اللہ کے بھرپور إمکانات اور ہماری بے فکریاں، موضوع پر سر سری مگر بامعنی مذاکرات ہوئے۔بےفکری عیب بھی ہے اور بڑا گناہ بھی۔
میوات موڈرن اکیڈمی آکیڑا کے بانی حاجی خالد صاحب سے مصافحہ ہوا، انھوں نے اپنے اسکول کے باہر انسان اور جانوروں کے لیے الگ الگ پینے کے پانی کی سبیل کا خوبصورت انتظام کیا ہوا ہے۔جو سوشل ورک کے ساتھ قابل تقلید دعوتی عمل بھی ہے۔صحیح البخاری
کتاب: ادب کا بیان
باب: آدمیوں اور جانوروں کے ساتھ مہربانی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6009
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْکَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي کَانَ بَلَغَ بِي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا فَقَالَ نَعَمْ فِي کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
ترجمہ:
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں چل رہا تھا کہ اسے شدت کی پیاس لگی اسے ایک کنواں ملا اور اس نے اس میں اتر کر پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو وہاں ایک کتا دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے تری کو چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ کتا بھی اتنا ہی زیادہ پیاسا معلوم ہو رہا ہے جتنا میں تھا۔ چناچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھرا اور منہ سے پکڑ کر اوپر لایا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اس کی مغفرت کردی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں ہر تازہ کلیجے والے پر نیکی کرنے میں ثواب ملتا ہے۔
Translation:
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "While a man was walking on a road. he became very thirsty. Then he came across a well, got down into it, drank (of its water) and then came out. Meanwhile he saw a dog panting and licking mud because of excessive thirst. The man said to himself "This dog is suffering from the same state of thirst as I did." So he went down the well (again) and filled his shoe (with water) and held it in his mouth and watered the dog. Allah thanked him for that deed and forgave him." The people asked, "O Allahs Apostle ﷺ ! Is there a reward for us in serving the animals?" He said, "(Yes) There is a reward for serving any animate (living being) ."صحیح البخاری
جمعہ کی نماز امام کامل ندوی اور مولانا عارف ندوی. أدخلناالله مدخلا كريما. کے إیماء پر سلمبا میں راقم آثم کو پڑھانا پڑی،خطاب اور خطبہ میں تاخیر سے پریشان ہو کر ایک بزرگ مقتدی نے کچھ کہدیا،جس کی دماغی صحت شاید اچھی نہیں تھی ،سلام کے بعد حافظ کفایت اللہ صاحب. بارك الله في ما أعطانا. نے اعلان کیا کہ مجھ سے غلطی ہوئی،میں معافی چاہتا ہوں، میں آیندہ کبھی کسی عالم دین کو اس گاؤں میں مدعو نہیں کرونگا،علمائے کرام سے یہ جاہلانہ سلوک کسی طرح روا نہیں۔اس غضبناک اعلان نے آنا فانا میں معمولی سے مامور کو غیر معمولی VIP چیف گیسٹ امیر بنادیا، "سچ ہے: بناھے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا، وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے"۔پھر تو مسجد میں ہی مہربانیاں،معافیاں اور مہمان نوازیاں شروع ہو گئیں۔
مولانا عارف ندوی، مدیر مدرسہ عثمان بن عفان رض سلمبا، إفادہ اور إستفادہ كے اوصاف سے کام لینا بخوبی جانتے ہیں۔ ابناے ندوہ کی اولین نشست آپ ہی کے ادارے میں منعقد ہوئی تھی،سماجی دعوتی کاموں اور تعلیمی اصلاحات سے ،بے پناہ دلچسپی رکھتے ہیں، ارباب" رہنما ے میوات"مولانا نسیم قاسمی اور سلیم قاسمی سوڑاکا کی خدمات نہایت قابل قدر ہیں،معمار میوات حضرت مولانا قاسم لقاه الله نضرة و سرورا اورفقيه ميوات مفتی رشید احمدعافاهما الله عافية النبيين والصديقين والشهداءوالصالحين.کی شخصیات وخدمات پر خاص نمبرات شایع کیے تاہم کچھ اھل قلم کو اپنے مقالات میں unnecessary قلمزدگی اور حزف وترمیمات کا گلہ ہے۔
عارف ندوی کا بھلا ہو انہوں نے داعی اسلام حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی حفظہ اللہ تک خاص نمبر پہنچا دیا۔ حضرت سے حکمنامہ لا کر، آن لائن ٢٠٠سوگھنٹےوالا درس قرآن کا سہرا راقم کے سر سجادیا۔یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لئے،ھوےھیں یکطرفہ فقیہان حرم میرے خلاف۔
Comments
Post a Comment